ابنا: اراکینِ اسمبلی کی حلف برداری کے بعد دونوں اسمبلیوں کے نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی بدھ کو جمع کروا دیے تھے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں جماعتِ اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی حمایت سے حکومت بنانے والی پاکستان تحریک انصاف نے پرویز خٹک کو قائد ایوان جبکہ اسد قیصر کو سپیکر اور امتیاز قریشی کو ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔
سپیکر کے عہدے کے لیے اسد قیصر اور امتیاز قریشی کا مقابلہ جمیعت علمائے اسلام کے منور خان اور ارباب حیات اکبر سے ہوگا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریکِ انصاف 55 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان مسلم لیگ ن نے سترہ، سترہ نشستیں حاصل کی ہیں۔
اس کے علاوہ قومی وطن پارٹی کے اس ایوان میں دس ، جماعت اسلامی کے آٹھ ، عوامی نیشنل پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد کے پانچ ، پانچ ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چار ، آل پاکستان مسلم لیگ کا ایک اور دو آزاد امیدوار ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہے اور جماعت نے آغا سراج درانی کو سپیکر اور شہلا رضا کو ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کے لیے نامزد کیا ہے۔
ایم کیو ایم کی جانب سے سپیکر کے عہدے کے لیے خواجہ اظہار الحسن اور ڈپٹی سپیکر کے لیے ہیر اسماعیل سوہو نے کاغذات جمع کروائے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے امیدوار آغا سراج صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ہیں، اس سے پہلے حکومت میں وزیر بلدیات تھے، انہوں نے سیاست کی ابتدا پاکستان پیپلز پارٹی سے کی۔ شکارپور سے تعلق رکھنے والے آغا سراج کے والد بھی اسپیکر رہے چکے ہیں۔
موجودہ سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 84، متحدہ قومی موومنٹ کے 48، مسلم لیگ فنکشنل کے 10، مسلم لیگ ن کے 9 اور تحریک انصاف کے چار اراکین شامل ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان سندھ اسمبلی میں پہنچے ہیں۔
گزشتہ شب متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر صوبہ سندھ میں حکومت بنانے کی بجائے صوبائی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا تھا ۔
.......
/169